امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ| آپ کا پورا نام

 

 امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا تعارف

تعارف: اللہ تبارک وتعالی نے جب چاہا کہ دنیا میں ذلیل ورسوا ہو چکی انسانیت کو کرامت کا تاج پہنا یا جاۓ تو اس نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا،آپ آۓ تو نظام کائنات میں انقلاب پیدا ہوا، نقل وخرد کے دریچے کھلے ،سوچنے سمجھنے کا انداز بدلا فکر ونظر کے زاویے تبدیل ہوۓ ،اعمال کی قدریں بدلیں۔ 

 

عرب کے باد یہ نشیں جن کا کردار کبھی ننگ انسانیت تھا، آج وہ رشک و قدسیاں ٹہرے، وہ کیا آئے عالم میں خزاں ندیدہ بہار آگئی علم وعرفان کےگلشن آباد ہوئے ، اسلام وایمان کے گلزار مہکے، رحمت خداوندی کی ایسی موسلا دھار بارش ہوئی کہ اس میں نہانے والوں کے تن پاک اور من صاف ستھرے اور پاکیزہ ہوگئے ۔

اسلام کی من موہنی تعلیمات اور ستھرے نظام سے جن نفوس میں غیر معمولی تبد یلی واقع ہوئی ، ان کی فہرست بہت طویل ہے اور اتنی طویل کہ تاریخ نام بنام انہیں شمار بھی نہیں کرسکتی۔ انہیں نفوس زکیہ میں ایک نام حضرت عمر بن خطاب کا ہے۔

 جو زمانہ جاہلیت میں قبیلے کے اندر بڑے معزز شمار ہوتے تھے اور اسلام نے انہیں بہت بڑا بنادیا اتنا بڑا کہ امت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ کوئی ان کا ہم سر وہم پلہ نہیں ۔

یہ وہی عمر ہیں جو کبھی سخت دل ، اجڈ مزاج ، کفر کی نا پاک ترین غلاظتوں میں لتھڑے ہوئے تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو پھوٹی آنکھ دیکھنے کوبھی تیار نہیں، بلکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کوقتل کرنے کا عزم بالجزم کرچکے تھے۔ (معاذ اللہ ) 

یہ سب ان کے کفر شدید کا اثر تھا جو ان پر غالب آ چکا تھا لیکن خیر کی فطری قوت جسے کفر نے ڈھانک رکھا تھا ، نگاہ نبوت نے اسے تاڑ لیا ،اسی لیے حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ان کے اسلام کے خواہاں بھی تھے۔

 بارگاہ رب تعالی سے ان کے سائل بھی حضور کی دعا قبول ہوئی اور جب اسلام لاۓ تو عالم یہ ہو گیا کہ اب عمر اللہ و رسول کے سچے جاں شمار حضور کے دل کا قرار ، رشک باغ و بہار فخر روز گار، انسانیت کاوقار ، اسلام کی سطوت وشوکت، اعداۓ دین کے لیے شمشیرخوں خوار و برق بار۔

عدل وانصاف کا انمٹ نشان ،اسلام کی شان کہ قیصر و کسری ان سے لرزہ براندام، نام لے لیا جاۓ تو یہودیت ونصرانیت سہم جاۓ ، کفر و شرک میں لرزہ پڑ جاۓ ، نفاق تلملا جاۓ ، جہاں سایہ پڑ جاۓ شیطان وہاں سے رفو چکر ہو جاۓ ، ناریوں میں صف ماتم بچھ جاۓ ، اورنور یوں میں باد بہاری چلے گئے۔

عشق ومحبت کے پھول مہکنے لگیں،مسلمانوں میں نیا جوش جذبہ اور ولولہ پیدا ہو جاۓ ،جس دن ایمان لاۓ اس دن سے حق کے متوالے کھلے عام کعبہ کی چھاؤں میں آ گئے نعرہ تکبیر کا غلغلہ ہوا، بارگاہ رسالت سے فاروق لقب پایا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا نام و نسب

نام ونسب: آپ کا شجرہ نسب اس طور پر ہے۔عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب قرشی عدوی ، آپ کی کنیت ابنقص ہے۔ ماں کا نام حاتمہ بنت باشم بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ہے۔

آپ کی ماں کس کی بیٹی ہیں، اس میں مؤرخین کا اختلاف ہے ۔ مؤرخین کا بڑاطبقہ اس طرف ہے کہ حنتمہ کے باپ کا نام ہاشم بن مغیرہ ہے،جبکہ دوسرے طبقہ کا ماننا ہے کہ حنتمہ کے باپ کا نام ہشام بن مغیرہ ہے۔ 

اس دوسرے قول کی بنیاد پر آپ کی ماں ابوجہل کی بہن ہوں گی اور ابو جہل آپ کا حقیقی ماموں ہوگا ۔ اور پہلے قول کی بنیاد پر حنتمہ ابوجہل کی ازاد بہن ہوں گی کیوں کہ ہاشم اور ہشام دونوں بھائی ہیں اور مغیرہ کے بیٹے ہیں۔

(اسدالغابہ ج ۴،ص:۱۳۸ ۔ الاصابہ ج ۴،ص:۲۷۹)

علامہ ابوعمر بن عبدالبر نے الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب میں فرمایا: جس نے یہ کہا کہ حنتمہ ہشام کی بیٹی ہے ۔ (دوسراقول ) بیشک اس نے خطا کی ہے۔ 

صاحب اسد الغابہ اور الاصابہ کے انداز بیان سے بھی پہلے قول کی تقویت ثابت ہوتی ہے۔اور الریاض النضرة في مناقب العشرة کے مصنف نے صراحۃ پہلے قول ہی کی تائید فر مائی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش کہاں ہوئی اور خاندانی حالات

پیدائش اور خاندانی حالات: آپ کی پیدائش واقعہ فیل کے تیرہ سال بعد ہوئی ۔ حضرت عمر کے خاندان کا شمار زمانہ جاہلیت میں اشراف قریش میں ہوتا تھا۔ اس وقت کے کئی اہم عہدے اس خاندان کے سپرد تھے۔

 اگر قریش میں آپس میں یا کسی دوسرے سے لڑائی جھگڑا پیش آ جاتا توصلح اور تصفیہ کے لیے سفارت اسی خاندان کے ذمی تھی ،اوراگر کبھی قریش کو دوسرے کے سامنے اپنی شرافت اور خاندان کی بالادستی ثابت کر فی ہوتی تب بھی اسی خاندان کو آواز دی جاتی اسی خاندان کے بزرگ جا کراپنی ذمہ داری کو ادا کرتے اور اپنے نسب کی بلندی و برتری دوسرے لوگوں پر ثابت کرتے ۔ (اسدالغابہ ج ۴ ص:۱۳۸)


حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا حلیہ مبارکہ 

حلیہ مبارکہ: آپ کا قد لمبا،جسم فربہ سر کے بال رنگ کافی گورا مائل بسرخی مونچھیں لمبی ، مونچھوں کے اطراف میں سرخی جھلکتی تھی ،رخسار اندر کود بے ہوۓ تھے، آپ دونوں ہاتھوں سے کام کر تے تھے ، ( عموماً آدی صرف داہنے،

ہاتھ سے کام کر تا ہے اور بائیں سے نہیں کر پا تا یا بائیں ہاتھ سے کام اچھانہیں کر پاتا) آپ کی لمبائی اس حد تک تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ کسی جانور پر بیٹھے ہوں ۔ (الاصابہ ج ۴،ص:۲۷۹)


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے